ملالہ یوسف زئی
ملالہ روشنی ویسے ہی کم ہے
چراغ زندگی بجھنے نہ پائے
لہو سے تم نے لکھا حرف تازہ
کسی صورت یہ اب مٹنے نہ پائے قلم بندوق پر حاوی رہے گا
ستم گر اب ستم کرنے نہ پائے
اگرچہ ہاتھ زخمی ہیں ہمارے
فصیل جہل اب اُٹھنے نہ پائے
حارث خلیق
ملالہ یوسف زئی
ملالہ روشنی ویسے ہی کم ہے
چراغ زندگی بجھنے نہ پائے
لہو سے تم نے لکھا حرف تازہ
کسی صورت یہ اب مٹنے نہ پائے قلم بندوق پر حاوی رہے گا
ستم گر اب ستم کرنے نہ پائے
اگرچہ ہاتھ زخمی ہیں ہمارے
فصیل جہل اب اُٹھنے نہ پائے
حارث خلیق
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے سیاب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے، ہم حیراں کیے ہوئے ہیں دلِ بے قرار
یہاں جو ہے اپنا پرستار ہے محبت سے کس کو سروکار ہے کبھی خواب میں بھی لگایا نہ ہاتھ یہ بندہ تمہارا گنہگار ہے سخن ساز خاموش رہنا بھی سیکھ
یہاں تو کوئی بات بھی نہ ڈھنگ سے ادا ہوئی حضور ص کی ثنا تو پھر حضور ص کی ثنا ہوئی ہر ایک حرف نعت کا سوال بن کے رہ