کہو ، کرے گا حفاظت مری خدا میرا
رہوں جو حق پہ مخالف کریں گے کیا میرا
خدا کے در سے اگر میں نہیں ہوں بیگانہ
تو ذرہ ذرہ عالم ہے آشنا میرا
مری حقیقت ہستی یہ مشت خاک نہیں
بجا ہے مجھ سے جو پوچھے کوئی پتا نہیں میرا
انہیں ہی عقل جو محتاجِ غیر ہے ہر دم
مجھے ہے عشق کہ جو خود ہے مدعا میرا
غرور اُنہیں ہے تو مجھ کو بھی ناز اکبر
سوا خدا کا سب ان کا ہے اور خدا میرا
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے
یوں بعدِ ضبطِ اشک پھروں گرد یار کے پانی پیے کسو پہ کوئی جیسے وار کے سیاب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے، ہم حیراں کیے ہوئے ہیں دلِ بے قرار