گلِ شاداب ہوں لیکن مہکنا بھول بیٹھا ہوں

غزل

گلِ شاداب ہوں لیکن مہکنا بھول بیٹھا ہوں
میں بلبل ہو کے بھی چپ ہوں ‘ چہکنا بھول بیٹھا ہوں

کمی ہے عزم و ہمت کی ‘ نہ اندیشہ کوئی حائل
میں ہوں “شاہینِ پَر بستہ” جھپٹنا بھول بیٹھا ہوں

جہأں لب ریز ہوتا ہوں ‘چھلک جاتا ہوں مستی میں
مگر ایسا ہوں پیمانہ چھلکنا بھول بیٹھا ہوں

پڑا ہوں ابر کی زد میں’ گِھرا ہوں نحس خانے میں
“ستارہ ہوں مگر یوں ہے چمکنا بھول بیٹھا ہوں ”

تری نازک ‘ غضب کی چال جب سے میں نے دیکھی ہے
چمن میں گل رخوں کے ساتھ چلنا بھول بیٹھاہوں

ہُوا ہوں ‘ اس طرح طارق! مُقَیَّد اپنے سینے میں
میں” دل ” ہو کر بھی مرضی سے ‘ دھڑکنا بھول بیٹھا ہوں !

طارق محمود طارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

×